پابندی وقت کے معنی ہیں کسی کام کو وقت پر انجام دینا۔ کائنات کا نظام پابندی وقت کی بدولت قائم ہے۔ سورج اپنے مقررہ وقت پر مشرق سے نکل کر تمام دنیا کو روشن کرتا ہے۔ پھر سارا دن آسمان کے سینے پر رینگتا ہوا مغرب کی وادیوں میں چھپ جاتا ہے ۔ رات کا اندھیرا ہر طرف چھا جاتا ہے۔ آسمان کی چادر پر ننھے ننھے تارے چپکنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مغرب سے چاند طلوع ہوتا ہے جو اپنی نورانی کرنوں سے تمام عالم کو روشن کرتا ہے۔ سورج ہو یا چاند ستارے ہوں یا دن رات کا پیدا ہونا ، سب میں وقت کی پابندی پائی جاتی ہے۔ سورج اگر وقت پر نہ نکلے تو کائنات کا نظام بدل جائے ۔ یا سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو تو دنیا کا پورا نظام نہیں نہیں ہو جائے۔ نظام فطرت وقت کا اتنا پابند ہے کہ لحہ کی دیر یا سویر نہیں ہو سکتی۔ اسلام ہمیں پابندی وقت کا سبق دیتا ہے۔ مقررہ نظام الاوقات کے مطابق مسجدوں میں اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹھیک وقت پر جماعت کھڑی ہوتی ہے۔ امام اللہ اکبر کہتا ہےتو تمام نمازی ہاتھ باندھ لیتے ہیں۔ ایک ساتھ رکوع اور سجود کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کھڑا ہوا ہے تو دوسرا رکوع میں ہے اور تیسرا سجدہ میں ۔ امامصاحب کی ایک آواز پر لاکھوں کا مجمع ایک ہی حرکت کرتا ہے۔ دوسرے ارکان اسلام لے لیں روزہ ہو یا حج یا کوئی دوسرا اسلامی تہوار ہر ایک کے لیے وقت اور تاریخ مقرر ہے۔ اگر ہم ان فرائض کو بے وقت ادا کریں گے تو ان کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ اگر ہم روزے کی افطار کے لیے سورج غروب ہونے سے پہلے اپنی مرضی سے کوئی وقت مقرر کر لیں تو وہ روزہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
وقت ایک زنجیر ہے ۔ سیکنڈ ، منٹ، گھنٹے، دن، ہفتے ، مہینے ، سال اور صدیاں اسی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں ۔ ایک دودھ پیتا بچہ بغیر سہارے زندہ نہیں رہ سکتا اور وہ ہر مرحلے پر اپنی ماں کا محتاج ہوتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ لڑکپن کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ اسے اب بھی کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر چہ وہ اپنی مرضی سے ہاتھ پاؤں ہلا سکتا ہے لیکن زندگی کے کئی معاملات میں اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح جوانی اور بڑھا پے کی عمر میں داخل ہوتا ہے۔ پھر موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ یہ زندگی کا چکر ازل سے ہے اور ابد تک اسی طرح چلتا رہے گا اور اس میں ذرا فرق نہیں آئے گا۔
ہے صبح ہوتی ہے شام ہوتی عمر یونہی تمام ہوتی ہے
وقت ایک ایسی قیمتی دولت ہے جس کے برابر کوئی اور دولت نہیں۔ کیونکہ اگر ہم کسی چیز کو ایک دفعہ حاصل نہیں کر سکے تو مسلسل کوشش سے اسے حاصل کر سکتے ہیں لیکن وقت ایک ایسی چیز ہے کہ اسے ایک دفعہ کھو بیٹھے تو عمر بھر واپس نہ لاسکیں گے۔ کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے۔ دولت گئی تو کچھ نہ گیا، صحت گئی تو کچھ نہ گیا لیکن وقت چلا گیا تو سب کچھ چلا گیا۔ جس شخص نے وقت کی قدرو قیمت پہچانی وہ کامیاب ہوا اور جس نے سنتی سے کام لے کر اس کی قدر نہ کی وہ ناکام و نامراد ہوا۔ صرف وہی شخص منزل کو پا سکتا ہے جو اپنے فرائض وقت پر ادا کرتا ہے۔ پولین بونا پارٹ کے نام سے کون واقف نہیں، اس کی بہادری کا سکہ دُور دُور تک بیٹھا ہوا تھا ۔ بڑے بڑے بہادر اس کے نام سے کانپ جاتے تھے۔ سارا یورپ اس کی دانائی کی تعریف کرتا تھا۔ لیکن افسوس ہے کہ اس
کے جرنیل کی ذراسی غلطی سے اسے ایسی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس نے نہ صرف یہ کہ اُسے موت کی آغوش میں سلا دیا۔ بلکہ فرانسیسیوں کو ایک مدت تک کے لیے اٹھنے کے قابل نہ رہنے دیا۔نپولین نے اپنی خداداد صلاحیت سے کام لے کر چال چلی اور اپنے جرنیل کو حکم دیا کہ میں واٹرلو کے میدان میں پہنچ کر سامنے سے دشمن پر حملہ کروں گا تم بھی فلاں وقت پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔ دشمن بوکھلا جائے گا اور مقابلے کی تاب نہ لا کر ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو جائے گا۔
نپولین نے وقت مقررہ پر دشمن پر ایسا زور دار حملہ کیا کہ مارتا دھاڑ تا دشمن کے درمیان جا پہنچا لیکن پیچھے سے حملہ نہ ہوا۔ نپولین دشمن کے گھیرے میں آ گیا اور اسی طرح لڑتے لڑتے شکست کھا کر قید ہوا اور تھوڑے عرصے بعد مر گیا۔ اس کے جرنیل نے ستی سے کام لیا اور مقررہ وقت کے بعد پہنچا جس کے نتیجے میں زبر دست شکست کا
سامنا کرنا پڑا۔ ایک مشہور مثال ہے کہ وقت سونا ہے اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ وقت ہی زندگی ہے واقعی یہ حقیقت ہے۔ وقت کی پابندی نہ کرنا سب سے بڑا خسارا ہے۔ ایک لمحے کی بربادی سے جو نقصان ہوتا ہے اس کی تلافی زندگی بھر نہیں ہو سکتی ۔
نہ کر عمر کی اک بھی ضائع گھڑی کہ ٹوٹی لڑی جب کہ چھوٹی کڑی
فرنیکن نہایت محنتی اور وقت کا پابند تھا۔ وہ اپنا ہر کام وقت پر کرتا اور ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتا تھا۔ جب وہ بچہ ہی تھا تو اپنے باپ کو کھانا کھانے کے بعد دیر تک ایک پیالے پر بیٹھے ہوئے دُعا کرتے دیکھتا رہتا۔ آخر ایک دن فرمیکن اُکتائے ہوئے اپنے باپ سے کہنے لگا۔ کہا جان ! آپ اپنی سب دولت اور ہمیشہ کی خوشحالی کے لیے ایک ہی دفعہ دُعا کیوں نہیں مانگ لیتے ۔ اس طرح بہت سا وقت بچ جائے گا ۔ جارج واشنگٹن کے سیکریٹری نے ایک دن دفتر میں دیر سے پہنچے کا عذر یہ پیش کیا کہ اس کی گھڑی پیچھے تھی ۔ واشنگٹن نے کہا یا تو اپنی گھڑی بدل اور نہ مجھے اپنا سیکر یٹری بدلنا پڑے گا۔ وقت وہ قیمتی سرمایہ ہے جو قدرت نے ہر شخص کو عطا کیا ہے۔ اب انسان کا فرض ہے کہ اس سے پوری طرح فائدہ اُٹھائے۔ جو لوگ وقت کی پابندی کے ساتھ اپنا کام انجام نہیں دیتے انہیں نا کامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔
0 Comments