
بڑھا پا بچپن کا دور ثانی ہوا کرتا ہے۔ بوڑھی کا کی میں ذائقے کے سوا کوئی جس باقی نہ تھی۔ آنکھیں ، ہاتھ ، پیر سب جواب دے چکے تھے۔ زمین پر پڑی رہتیں اور جب گھر والے کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف کرتے ، کھانے کا وقت مل جاتا یا مقدار کافی نہ ہوتی یا بازار سے کوئی چیز آتی اور انھیں نہ ملتی تو رونے لگتی تھیں اور ان کا رونا محض پسورنا نہ تھا۔ وہ بہ آواز بلند روتی تھیں۔ ان کے شوہر کو مرے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا۔ سات بیٹے جوان ہو ہو کر داغ دے گئے اور اب ایک بھتیجے کے سوا دنیا میں ان کا کوئی نہ تھا۔ اسی بھتیجے کے نام انھوں نے ساری جائدا دلکھ دی تھی ۔ ان حضرت نے لکھاتے وقت تو خوب لمبے چوڑے وعدے کیے لیکن وہ وعدے صرف سبز باغ تھے، اس جائداد کی سالانہ آمدنی ڈیڑھ دوسوروپے سے کم نہ تھی لیکن بوڑھی کا کی کواب پیٹ بھر روکھا دانہ بھی مشکل سے ملتا۔ بدھ رام طبیعت کے نیک آدمی تھے، لیکن اسی وقت تک کہ ان کی جیب پر کوئی آنچ نہ آئے ۔ روپا طبیعت کی تیز تھی لیکن ایشور سےڈرتی تھی ، اس لیے بوڑھی کا کی پر اس کی تیزی اتنی نہ کھلتی تھی جتنی بدھ رام کی نیکی۔ بدھ رام کو کبھی کبھی اپنی بے انصافی کا احساس ہوتا۔ وہ سوچتے کہ اس جائداد کی یہ دولت میں اس وقت بھلا آدمی بنا بیٹھا ہوں اور اگر زبانی تسکین یا تکلفی سے صورتِ حال میں کچھ اصلاح ہو سکتی تو انھیں مطلق دریغ نہ ہوتا، لیکن مزید خرچ کا خوف ان کی نیکی کو دبائے رکھتا تھا۔
سارے گھر میں اگر کسی کو کا کی سے محبت تھی تو وہ بدھ رام کی چھوٹی لڑکی لاڈلی تھی۔ لاڈلی اپنے دونوں بھائیوں کے خوف سے اپنے حصے کی مٹھائی بوڑھی کا کی کے پاس بیٹھ کر کھایا کرتی تھی۔
رات کا وقت تھا۔ بدھ رام کے دروازے پر شہنائی بج رہی تھی اور گاؤں کے بچوں کا جم غفیر نگاہ حیرت سے گانے کی داد دے رہا تھا۔ چار پائیوں پر مہمان لیے ہوئے نائیوں سے نکیاں لگوا رہے تھے۔ بدھ رام کے لڑکے سکھ رام کا تلک آیا ہے۔ یہ اُسی کا جشن ہے۔ گھر میں مستورات گا رہی تھیں اور روپا مہمانوں کی دعوت کا سامان کرنے میں مصروف تھی۔
بوڑھی کا کی اپنی اندھیری کوٹھری میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ لذت آمیز خوش بو انھیں بے تاب کر رہی تھی۔ وہ دل میں سوچتی تھیں شاید مجھے پوریاں نہ ملیں گی ۔ اتنی دیر ہو گئی کوئی کھانا لے کر نہیں آیا۔
بوڑھی کا کی کے چشم خیال میں پوریوں کی تصویر ناچنے لگی۔ خوب لال لال پھولی پھولی نرم نرم ہوں گی ۔ کچوریوں میں اجوائن اور الا بچی کی مہک آرہی ہوگی۔ ایک پوری ملتی تو ذرا ہاتھ میں لے کر دیکھتی ۔ کیوں نہ چل کر گڑاہ کے سامنے ہیبیٹھوں ۔ پوریاں پچھن چھن گڑاہ میں تیرتی ہوں گی ۔ کڑاہ سے گرما گرم نکل کر کشھوتی میں رکھی جاتی ہوں گی۔
اس طرح فیصلہ کر کے بوڑھی کا کی اکڑوں بیٹھ کر ، ہاتھوں کے بل کھنکتی ہوئی بہ مشکل تمام چوکھٹ سے اتریں اور دھیرے دھیرے رینگتی ہوئی کڑاہ کے پاس جا بیٹھیں ۔ روپا اس وقت ایک سراسیمگی کی حالت میں تھی ۔ اس کمرے میں جاتی کبھی اُس کمرے میں۔ کبھی گڑاہ کے پاس کبھی کوٹھے پر ۔ کسی نے باہر سے آکر کیا: ”مہاراج ٹھنڈائی مانگ رہے ہیں ۔ ٹھنڈائی دینے لگی۔ اتنے میں پھر کسی نے کہا: بھاٹ آیا ہے، اسے کچھ دے دو ۔ بھاٹ کے لیے سدھا نکال رہی تھی کہ ایک
تیسرے آدمی نے آ کر پوچھا کہ ابھی کھانا تیار ہونے میں کتنی دیر ہے؟ ذرا ڈھول مجیرا اُتار دو۔ بے چاری اکیلی عورت چاروں طرف دوڑتے دوڑتے حیران ہورہی تھی ۔ منجھلاتی تھی ، گرجتی تھی ، پر غصہ باہر نکلنے کا موقع نہ پاتا تھا۔ خوف ہوتا تھا کہ کہیں پڑوسیں یہ نہ کہنے لگیں کہ اتنے ہی میں اُبل پڑیں۔ پیاس سے خود اس کا حلق سوکھا جاتا تھا۔ گرمی کے مارے پھنکی جاتی تھی لیکن اتنی فرصت کہاں کہ ذرا پانی پی لے یا پنکھا لے کر جھلے ۔ یہ بھی اندیشہ تھا کہ ذرا نگاہ بیٹی اور چیزوں کی لوٹ مچی ۔ اس کش مکش کے عالم میں اس نے بوڑھی کا کی کو کڑاہ کے پاس بیٹھے دیکھا تو جل گئی۔ غصہ نہ رُک سکا، یہ خیال نہ رہا کہ پڑوسنیں بیٹھی ہوئی ہیں، دل میں کیا کہیں گی۔ مردانے میں لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے۔ جیسے مینڈک کچھوے پر جھپٹتا ہے اسی طرح وہ بوڑھی کا کی پر جھپٹی اور انھیں دونوں ہاتھوں سے سنجھوڑ کر بولی "ایسے پیٹ میں آگ لگے، پیٹ ہے کہ آگ کا گنڈ ہے۔ کوٹھری میں بیٹھے کیا دم گھٹتا تھا۔ ابھیمہمانوں نے نہیں کھایا ۔ تب تک صبر نہ ہوسکا۔ آ کر چھاتی پر سوار ہو گئیں ۔ گاؤں دیکھے گا تو کہے گا کہ بڑھیا، بھر پیٹ کھانے کو نہیں پاتی ، تب ہی تو اس طرح بو کھلائے پھرتی ہے ۔ “ اس خیال سے اس کا غصہ اور بھی تیز ہو گیا۔ ” نام بیچنے پرلگی ہے، ناک کٹوا کے دم لے گی۔ اتنا ٹھونستی ہے، نہ جانے کہاں بھسم ہو جاتا ہے۔ بھلا چاہتی ہو تو جا کر کو ٹھری میں بیٹھو۔ جب گھر کے لوگ لگیں گے تو تمھیں بھی ملے گا۔ بوڑھی کا کی نے سر نہ اٹھایا۔ نہ روئیں نہ بولیں، چپ چاپ رینگتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ لاڈلی کو کا کی سے بہت اُنس تھا۔ بھولی بھالی ، سیدھی لڑکی تھی ۔ طفلانہ شوخی اور مسرت کی اس میں بُو تک نہ تھی۔ وہ جھنجلا رہی تھی کہ یہ لوگ کا کی کو کیوں بہت ساری پوریاں نہیں دے دیتے ۔ مہمان سب کی سب تھوڑے ہی کھا جائیں گے اور اگر کا کی نے مہمانوں سے پہلے ہی کھا لیا تو کیا بگڑ جائے گا؟ وہ کا کی کے پاس جا کر انھیں تشفی دینا چاہتی تھی، لیکن ماں کے خوف سے نہ جاتی تھی ۔ اس نے اپنے حصے کی پوریاں مطلق نہ کھائیں۔ اپنی گڑیوں کی پٹاری میں بند کر رکھی تھیں ۔ وہ یہ پوریاں کا کی کے پاس لے جانا چاہتی تھی۔ اس کا دل بے قرار ہورہا تھا۔ بوڑھی کا کی میری آواز سنتے ہی اٹھ بیٹھیں گی ۔ پوریاں دیکھ کر کیسی خوش ہوں گی ۔ مجھے خوب پیار کریں گی۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ روپا آنگن میں سورہی تھی۔ لاڈلی کی آنکھوں میں نیند نہ آتی تھی۔ کا کی کو پوریاں کھلانے کی خوشی اسے سونے نہ دیتی تھی۔ اس نے گڑیوں کی پٹاری سامنے ہی رکھی ۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اماں غافل سو رہی ہیں تو وہ چپکے سے اٹھی اور سوچنے لگی کہ کیسے چلوں۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ صرفچولھوں میں آگ چمک رہی تھی۔ لاڈلی کی نگاہ دروازے والے نیم کے درخت کی طرف گئی۔ مارے خوف کے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اتنے میں کتا اُٹھ بیٹھا۔ لاڈلی کو ڈھارس ہوئی۔ کئی سوتے ہوئے آدمیوں کی نسبت ایک جاگتا ہوا کتا اس کے لیے زیادہ تقویت کا باعث ہوا۔ اُس نے بھاری اٹھائی اور بوڑھی کا کی کی کوٹھری کی طرف چلی۔
کا کی اٹھو میں پوریاں لائی ہوں۔“ کاکی نے لاڈلی کی آواز پہچانی۔ چٹ پٹ اُٹھ بیٹھیں۔ دونوں ہاتھوں سے لاڈلی کو ٹولا اور اسے گود میں بٹھالیا۔ لاڈلی نے
پوریاں نکال کر دیں۔ کا کسی نے پوچھا: ” کیا تمھاری اماں نے دی ہیں؟“ کا کی پوریوں پر ٹوٹ پڑیں۔ پانچ منٹ میں پٹاری خالی ہو گئی۔ لاڈلی نے پوچھا: ” کا کی پیٹ بھر گیا ؟“
جیسے تھوڑی سی بارش ٹھنڈک کی جگہ اور بھی جس پیدا کر دیتی ہے، اسی طرح ان چند پوریوں نے کا کی کی اشتہا اور رغبت کو اور بھی تیز کر دیا تھا۔ بولیں : ”نہیں! بیٹی
جا کے اناں سے اور مانگ لاؤ۔“
کا کی نے پٹاری کو پھر ٹولا ۔ اس میں چند ریزے گرے تھے، انھیں نکال کر کھا گئیں۔ یکا یک لاڈلی سے بولیں : ”میرا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے چلو جہاں مہمانوں نے کہا۔
بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔“
لاڈلی ان کا نشانہ سمجھ سکی۔ اس نے کا کی کا ہاتھ پکڑا اور انھیں لاکر جُھوٹے پلوں کے پاس بٹھا دیا اور غریب بھوک کی ماری فاتر العقل بڑھیا پتلوں سے پوریوں کے ٹکڑے چن چن کر کھانے لگی۔عین اسی وقت رُوپا کی آنکھ کھلی۔ اسے معلوم ہوا کہ لاڈلی میرے پاس نہیں ہے۔ چونکی ، چار پائی کے ادھر اُدھر تا کنے لگی کہ کہیں لڑکی نیچے تو نہیں گر پڑی۔ اُسے وہاں نہ پا کر وہ اُٹھ بیٹھی ، تو کیا دیکھتی ہے کہ لاڈلی جھوٹے پلوں کے پاس چپ چاپ کھڑی ہے اور بوڑھی کا کی پٹلوں پر سے پوریوں کے ٹکڑے اُٹھا اُٹھا کر کھا رہی ہے۔
رُو پا کا کلیجائن سا ہو گیا۔ روپا کو اپنی خود غرضی اور بے انصافی آج تک کبھی اتنی صفائی سے نظر نہ آئی تھی۔ ہائے! میں کتنی بے رحم ہوں۔ جس کی جائداد سے مجھے دوسو روپے سال کی آمدنی ہو رہی ہے، اس کی یہ ڈرگت، اور میرے کا رن! مجھے سے بڑا بھاری گناہ ہوا ہے۔ آج میرے بیٹے کا تلک تھا ، سیکڑوں آدمیوں نے کھانا کھایا، میں ان کے اشارے کی غلام بنی ہوئی تھی ، اپنے نام کے لیے، اپنی بڑائی کے لیے سیکڑوں روپے خرچ کر دیے، لیکن جس کی بہ دولت ہزاروں روپے کھائے ، اسے اس تقریب کے دن بھی پیٹ بھر کر کھانا نہ دے سکی محض اس لیے نا کہ وہ بڑھیا ہے، بے کس ہے، بے زبان ہے۔
اُس نے چراغ جلایا، اپنے بھنڈارے کا دروازہ کھولا اور ایک تھالی میں کھانے کی سب چیزیں سجا کر لیے ہوئے بوڑھی کا کی کی طرف چلی ۔ آدھی رات ہو چکی تھی، آسمان پر تاروں کے تھال سجے ہوئے تھے اور ان پر بیٹھے ہوئے فرشتے بہشتی نعمتیں سجا رہے تھے، لیکن ان میں کسی کو وہ مسرت نہ حاصل ہو سکتی تھی جو بوڑھی کا کی کو اپنے سامنے تھال دیکھ کر ہوئی۔ روپا نے رقت آمیز لہجے میں کہا: کا کی اٹھو! کھانا کھا لو۔ مجھ سے آج بڑی بھول ہوئی۔ اس کا برا نہ ماننا، پر ماتما سے دعا کرو کہ میری خطا معاف کر دے۔“بھولے بھالے بچے کی طرح جو مٹھائیاں پا کر مار اور گھر کہاں سب بھول جاتا ہے، بوڑھی کا کی بیٹھی ہوئی کھانا کھا رہی تھیں، ان کے ایک ایک روئیں سے بچی دعائیں نکل رہی تھیں اور دو پا بیٹھی یہ روحانی نظارہ دیکھ رہی تھی۔
0 Comments